Muzzamil Hussain
banner
1sudo.bsky.social
Muzzamil Hussain
@1sudo.bsky.social
Quotes and Reposts ≠ endorsement.
Views are personal.
#Urdu
#technology #blockchain #Programmanagement #quantumComputing
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

منیر نیازی
November 23, 2025 at 7:21 PM
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

فیض احمد فیض
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
November 22, 2025 at 3:02 AM
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
November 22, 2025 at 3:01 AM
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
بہادر شاہ ظفر
November 14, 2025 at 5:13 PM
جو لوگ اپنے دل کی نہیں سنتے انہیں کبھی بھی اپنی اس عادت کو نہیں بدلنا چاہیے۔
جیسے ہیں ویسے ہی رہیں کیوں خوا مخواہ اپنے لئے عذیت کا سامان کرتے ہیں دل کی سن کر
October 25, 2025 at 10:02 AM
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

فیض احمد فیض
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
October 10, 2025 at 3:16 PM
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

بام مینا سے ماہتاب اترے
دست ساقی میں آفتاب آئے

ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے

عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
October 10, 2025 at 3:15 PM
یہ خاکِ گُمشدہ تمہارے ہاتھ کس طرح لگی

تمہاری اُنگلیوں پہ ہم شمار کیسے ہو گئے


یہ عُمر تو کسی عجیب واقعے کی عُمر تھی

یہ دن فقط سپردِ روزگار کیسے ہو گئے

‏محمد فیضی
October 3, 2025 at 7:39 AM
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو

یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل
ظرف کا کام ہے

جگر مراد آبادی
September 21, 2025 at 11:49 AM
اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال

جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
September 18, 2025 at 6:49 PM
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

کس لئے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
September 7, 2025 at 5:33 PM
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
September 7, 2025 at 4:48 PM
میں اپنے ہی من کا حوصلہ ہوں
July 28, 2025 at 6:43 PM
A wise man once said nothing
July 12, 2025 at 5:08 AM
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کےسوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا
July 11, 2025 at 8:43 PM
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کےسوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا
July 11, 2025 at 8:42 PM
کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پر یاد آتی ہے

جون ایلیاء
July 9, 2025 at 6:23 PM
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو

جون ایلیا
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
June 27, 2025 at 12:29 AM
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
June 27, 2025 at 12:28 AM
‏یہ چاہت فتح ایسے عجیب و غریب گانے کیوں بناتا ہے ؟
‏جواب :
May 15, 2025 at 6:25 PM
Farewell Skype. You will be missed.
End of life : Skype is closing down after 23 years in service on May 5th 2025.
techcrunch.com/2025/02/28/m...
May 5, 2025 at 3:12 PM
ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سے
ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے

الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہار
عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاری
ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں

تمہیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں

احمد فراز
April 26, 2025 at 1:22 PM
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاری
ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں

تمہیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں

احمد فراز
April 26, 2025 at 1:21 PM
بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماں

یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ

عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی
تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے

حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی
April 24, 2025 at 6:14 PM