اور اسی خواب میں پھر سے
اک نیا خواب بُنتے ہیں۔
خواب میں تتلیاں ہیں،
جگنو، چاند اور تارے ہیں۔
خواب میں تم میرے ہو
اور یہ سب تمہارے ہیں
خواب میں ہم بھیگتے ہیں
جیسے کوئی بارش ہو۔
خواب اک دھندلی وادی ہے
جیسے بادلوں کی سازش ہو۔
خواب میں سب خواب سا ہے،
ہر اک چہرا جناب سا ہے
اور اسی خواب میں پھر سے
اک نیا خواب بُنتے ہیں۔
خواب میں تتلیاں ہیں،
جگنو، چاند اور تارے ہیں۔
خواب میں تم میرے ہو
اور یہ سب تمہارے ہیں
خواب میں ہم بھیگتے ہیں
جیسے کوئی بارش ہو۔
خواب اک دھندلی وادی ہے
جیسے بادلوں کی سازش ہو۔
خواب میں سب خواب سا ہے،
ہر اک چہرا جناب سا ہے