آنکھیں روشن دل منور
Mazhry, a renowned Ophthalmologist and Urdu poet, blends the precision of medicine with the beauty of poetry. Based in Lahore, Pakistan, practices ophthalmology and writes diverse Urdu poetry, captivating readers.
شاعر: ڈاکٹر ضیاالمظہری
چاند پر پڑی نظر آپ یاد آ گئے
چاند کی کسے خبر آپ یاد آ گئے
چودھویں کی رات تھی چودھویں کا چاند تھا
پورا چاند دیکھ کر آپ یاد آ گئے
چاروں اور پھیلتی مہربان چاندنی
اور گریز پا قمر آپ یاد آ گئے
یکے از اشعارِ #ضیاءالمظہریؔ
ہمارا دل بہل جائے تو تم پھر سے مکر جانا
ہمارا دل بہل جائے تو تم پھر سے مکر جانا
🎥 Prof. Zia ul Mazhry performed live #Phaco using the cutting-edge Oertli Catarhex III & premium Medicontur Germany ELON EDOF IOL at #LahoreOphthalmo2024, sponsored by Optisurg Pakistan.
📺 Watch : youtu.be/OttZ3RbZXsM
#Ophthalmology #EDOFLens #LiveSurgery
🎥 Prof. Zia ul Mazhry performed live #Phaco using the cutting-edge Oertli Catarhex III & premium Medicontur Germany ELON EDOF IOL at #LahoreOphthalmo2024, sponsored by Optisurg Pakistan.
📺 Watch : youtu.be/OttZ3RbZXsM
#Ophthalmology #EDOFLens #LiveSurgery
Phaco Magic
youtu.be/5DAi8Ql_bgM
Phaco Magic
youtu.be/5DAi8Ql_bgM
اہل دل آج بھی ہیں، اہل زبان سے آگے
اہل دل آج بھی ہیں، اہل زبان سے آگے
Phaco Magic
youtu.be/5DAi8Ql_bgM
Phaco Magic
youtu.be/5DAi8Ql_bgM
میں ککھ دا نی لاچار سہی
توں حسن جمال دا مالک سہی
میں کوجھا تے بیکار سہی
توں باغ بہار دی رونق سہی
توں گل پھل تے میں خار سہی
میکوں شاکر آپڑے نال چا رکھ
میں نوکر توں سرکار سہی
شاکر شجاع آبادی
میں ککھ دا نی لاچار سہی
توں حسن جمال دا مالک سہی
میں کوجھا تے بیکار سہی
توں باغ بہار دی رونق سہی
توں گل پھل تے میں خار سہی
میکوں شاکر آپڑے نال چا رکھ
میں نوکر توں سرکار سہی
شاکر شجاع آبادی
میں ایک دستِ ہنر مند کے عذاب میں ہوں
میں ایک دستِ ہنر مند کے عذاب میں ہوں
رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا
دولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناں
آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا
گرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناں
تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا
رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا
دولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناں
آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا
گرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناں
تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا
اک شخص تیرے شہر سے تنہا گذر گیا۔
اک شخص تیرے شہر سے تنہا گذر گیا۔
🎥 Prof. Zia ul Mazhry performed live #Phaco using the cutting-edge Oertli Catarhex III & premium Medicontur Germany ELON EDOF IOL at #LahoreOphthalmo2024, sponsored by Optisurg Pakistan.
📺 Watch : youtu.be/OttZ3RbZXsM
#Ophthalmology #EDOFLens #LiveSurgery
🎥 Prof. Zia ul Mazhry performed live #Phaco using the cutting-edge Oertli Catarhex III & premium Medicontur Germany ELON EDOF IOL at #LahoreOphthalmo2024, sponsored by Optisurg Pakistan.
📺 Watch : youtu.be/OttZ3RbZXsM
#Ophthalmology #EDOFLens #LiveSurgery
ہمارا دل بہل جائے تو تم پھر سے مکر جانا
ہمارا دل بہل جائے تو تم پھر سے مکر جانا
شہر کا شہر تعاقب میں نکل پڑتا ہے
میں سرِ آب جلاتا ہوں فقط ایک چراغ
دوسرا آپ ہی تالاب میں جل پڑتا ہے
پیاس جب توڑتی ہے سر پہ مصیبت کے پہاڑ
کوئی چشمہ میری آنکھوں سے ابل پڑتا ہے
شہر کا شہر تعاقب میں نکل پڑتا ہے
میں سرِ آب جلاتا ہوں فقط ایک چراغ
دوسرا آپ ہی تالاب میں جل پڑتا ہے
پیاس جب توڑتی ہے سر پہ مصیبت کے پہاڑ
کوئی چشمہ میری آنکھوں سے ابل پڑتا ہے
دل کی نادانیاں نہیں جاتیں
بام و در جل اُٹھے چراغوں سے
گھر کی ویرانیاں نہیں جاتیں
اوڑھ لی ھے زمین خود پہ مگر
تن کی عریانیاں نہیں جاتیں
ھم تو چپ ھیں مگر زمانے کی
حشر سامانیاں نہیں جاتیں
دل کی نادانیاں نہیں جاتیں
بام و در جل اُٹھے چراغوں سے
گھر کی ویرانیاں نہیں جاتیں
اوڑھ لی ھے زمین خود پہ مگر
تن کی عریانیاں نہیں جاتیں
ھم تو چپ ھیں مگر زمانے کی
حشر سامانیاں نہیں جاتیں
ہم اپنی ذات کے قصے در و دیوار سے کہتے.
ہم اپنی ذات کے قصے در و دیوار سے کہتے.
تُجھ سے ملے بغیر نومبر گذر گیا
عُمرِ رَواں خِزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی
ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا
کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں
صحرا بھی میرے گھر کے در و بام پر گیا
تُجھ سے ملے بغیر نومبر گذر گیا
عُمرِ رَواں خِزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی
ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا
کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں
صحرا بھی میرے گھر کے در و بام پر گیا
Exciting times ahead with live phaco surgery featuring Medicontur EDOf Elon IOL implantation. Stay tuned for more updates! #LahoreOphthalmo #Ophthalmology #PhacoSurgery #MedicalEducation #EyeHealth
Exciting times ahead with live phaco surgery featuring Medicontur EDOf Elon IOL implantation. Stay tuned for more updates! #LahoreOphthalmo #Ophthalmology #PhacoSurgery #MedicalEducation #EyeHealth
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
مرزا غالب
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
مرزا غالب
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے
جھوٹ تخلیق کرو اس پر یقین کرو اور اسے پھیلاؤ
New Social Media Order
جھوٹ تخلیق کرو اس پر یقین کرو اور اسے پھیلاؤ
New Social Media Order
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے نہیں ہے نا
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے
ہمـارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے نہیں ہے نا
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے نہیں ہے نا
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے نہیں ہے نا
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے
ہمـارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے نہیں ہے نا
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے نہیں ہے نا
یعنی نظارا سارے کا سارا فریب ہے
اس ایک پل میں ضم ہیں ہمارے ازل ابد
بہتا ہوا یہ وقت کا دھارا فریب ہے
شب کے مسافروں کو ابھی یہ خبر ملی
رستہ دکھانے والا ستارا فریب ہے
حماد غزنوی
یعنی نظارا سارے کا سارا فریب ہے
اس ایک پل میں ضم ہیں ہمارے ازل ابد
بہتا ہوا یہ وقت کا دھارا فریب ہے
شب کے مسافروں کو ابھی یہ خبر ملی
رستہ دکھانے والا ستارا فریب ہے
حماد غزنوی
اُنکے اندازِ کرم اُن پہ وہ آنا دِل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دِل کا
نہ سُنا اُس نے توجہ سے فسانہ دِل کا
عُمر گُزری ہے مگر درد نہ جانا دِل کا
کُچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دِل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پُرانا دِل کا
اُنکے اندازِ کرم اُن پہ وہ آنا دِل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دِل کا
نہ سُنا اُس نے توجہ سے فسانہ دِل کا
عُمر گُزری ہے مگر درد نہ جانا دِل کا
کُچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دِل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پُرانا دِل کا
اک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں
اک تری آرزو سے ہے آباد
ورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں
عشق رسم و رواج کیا جانے
یہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں
وہ ہمارے ہم ان کے ہو جائیں
بات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں
اک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں
اک تری آرزو سے ہے آباد
ورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں
عشق رسم و رواج کیا جانے
یہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں
وہ ہمارے ہم ان کے ہو جائیں
بات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں