ہر گہ کہ یاد روئے توکردم جواں شدم
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تو پھر یہ عمر بھی کیوں تم سے گر نہیں ملنا
یہ کون تنہائیوں میں چپکے سے کہتا ہے
تیرے بغیر سکوں عمر بھر نہیں ملنا
تو پھر یہ عمر بھی کیوں تم سے گر نہیں ملنا
یہ کون تنہائیوں میں چپکے سے کہتا ہے
تیرے بغیر سکوں عمر بھر نہیں ملنا
وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے
نوشی گیلانی
وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے
نوشی گیلانی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
ناصر کاظمی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
ناصر کاظمی
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
کن راستوں پہ ہوں کہ ابھی تک سفر میں ہوں
مصطفیٰ زیدی
کن راستوں پہ ہوں کہ ابھی تک سفر میں ہوں
مصطفیٰ زیدی
کہ آشیاں کسی شاخ چمن پہ بار نہ ہو
- میر انیس
کہ آشیاں کسی شاخ چمن پہ بار نہ ہو
- میر انیس
قدموں کی کیا بساط تھی , سانسیں بھی رُک گئیں
پروین شاکر🖤
قدموں کی کیا بساط تھی , سانسیں بھی رُک گئیں
پروین شاکر🖤