معتبر بناتے ہیں
ربط جو بنانے ہوں
سوچ کر بناتے ہیں
کلام سیدنویدفرید
معتبر بناتے ہیں
ربط جو بنانے ہوں
سوچ کر بناتے ہیں
کلام سیدنویدفرید
تو سحر بناتے ہیں
طائروں کو اڑنا ہے
بال و پر بناتے ہیں
نسل نو کا مستقبل
بے خطر بناتے ہیں
امن کے تقاضے کو
پر اثر بناتے ہیں
خود بھی ڈرتے رہتے ہیں
وہ جو ڈر بناتے ہیں
آستیں کے سانپوں کو
بے ضرر بناتے ہیں
دل ادھر لگاتے ہیں
کل ادھر بناتے ہیں
باپ گھر پہ تنہا ہے
بچے زر بناتے ہیں
تو سحر بناتے ہیں
طائروں کو اڑنا ہے
بال و پر بناتے ہیں
نسل نو کا مستقبل
بے خطر بناتے ہیں
امن کے تقاضے کو
پر اثر بناتے ہیں
خود بھی ڈرتے رہتے ہیں
وہ جو ڈر بناتے ہیں
آستیں کے سانپوں کو
بے ضرر بناتے ہیں
دل ادھر لگاتے ہیں
کل ادھر بناتے ہیں
باپ گھر پہ تنہا ہے
بچے زر بناتے ہیں
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز
اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز
اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا
فوج کو ختم کرکے ایک نیا ادارہ بارڈر سیکیورٹی فورس کے نام سے بنایا جائے۔ جسکا کام صرف سرحدوں کی حفاظت ھو۔ فوج کے تمام کاروبار و اثاثوں کو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ بریگیڈٰئیر رینک سے اوپر کے تمام رینکس ختم کئے جائے۔
فوج کو ختم کرکے ایک نیا ادارہ بارڈر سیکیورٹی فورس کے نام سے بنایا جائے۔ جسکا کام صرف سرحدوں کی حفاظت ھو۔ فوج کے تمام کاروبار و اثاثوں کو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ بریگیڈٰئیر رینک سے اوپر کے تمام رینکس ختم کئے جائے۔
کچھ نہتوں کے سر اتارے گٸے
پہلے اعلان ِآشتی ہوا پھر
بتیاں بجھ گٸیں اشارے گئے
میرے بچوں کے خون سے گلشن
سالہاسال تک سنوارے گٸے
فرحت عباس شاہ
کچھ نہتوں کے سر اتارے گٸے
پہلے اعلان ِآشتی ہوا پھر
بتیاں بجھ گٸیں اشارے گئے
میرے بچوں کے خون سے گلشن
سالہاسال تک سنوارے گٸے
فرحت عباس شاہ
خدا کا بن خلیفہ امن کا تو علم ہو جا
خدا کا بن خلیفہ امن کا تو علم ہو جا