تم خوش کہ مری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے
غارت گریٔ اہلِ ستم بھی کوئی دیکھے
گلشن میں کوئی پھول، نہ غنچہ، نہ کلی ہے
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں!
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے!
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہ
تم خوش کہ مری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے
غارت گریٔ اہلِ ستم بھی کوئی دیکھے
گلشن میں کوئی پھول، نہ غنچہ، نہ کلی ہے
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں!
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے!
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہ
تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو
سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں
خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو
بہار عارض گلگوں تجھے خدا کی قسم
وہ صبح میرے لیے بھی کہ جس کی شام نہ ہو
مرے سکوت کونفرت سے دیکھنے والے
یہی سکوت کہیں باعث کلام نہ ہو
تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو
سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں
خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو
بہار عارض گلگوں تجھے خدا کی قسم
وہ صبح میرے لیے بھی کہ جس کی شام نہ ہو
مرے سکوت کونفرت سے دیکھنے والے
یہی سکوت کہیں باعث کلام نہ ہو
میرے اندر بھی اک ہندو رہتا ہے
کوئی جادوگر کے بازو کاٹ بھی دے
اس کے ہاتھ میں پھر بھی جادو رہتا ہے
اس کے لبوں پر انگلش ونگلش رہتی ہے
میرے ہونٹ پہ اردو اردو رہتا ہے
عقل ہزاروں بھیس بدلتی رہتی ہے
یہ دل مر جانے تک بدھو رہتا ہے
لیاقت جعفری
میرے اندر بھی اک ہندو رہتا ہے
کوئی جادوگر کے بازو کاٹ بھی دے
اس کے ہاتھ میں پھر بھی جادو رہتا ہے
اس کے لبوں پر انگلش ونگلش رہتی ہے
میرے ہونٹ پہ اردو اردو رہتا ہے
عقل ہزاروں بھیس بدلتی رہتی ہے
یہ دل مر جانے تک بدھو رہتا ہے
لیاقت جعفری
حسن ظن ہے کہ نیا دور سنہرا ہوگا
بات خنجر کی طرح دل میں اتر جائے گی
بات کا زخم سمندر سے بھی گہرا ہوگا
وہ اگر چاہیں گے بدلیں یہ نظامے ہستی
ہر اک گام پہ ظلمات کا پہرا ہوگا
حق و انصاف کی قاتل ہے تمہاری بستی
کوئی عادل بھی تو بستی میں نہ ٹھہرا ہوگا
عادل ابن ریاض
حسن ظن ہے کہ نیا دور سنہرا ہوگا
بات خنجر کی طرح دل میں اتر جائے گی
بات کا زخم سمندر سے بھی گہرا ہوگا
وہ اگر چاہیں گے بدلیں یہ نظامے ہستی
ہر اک گام پہ ظلمات کا پہرا ہوگا
حق و انصاف کی قاتل ہے تمہاری بستی
کوئی عادل بھی تو بستی میں نہ ٹھہرا ہوگا
عادل ابن ریاض