Urdu Poetry
urdupoetryy.bsky.social
Urdu Poetry
@urdupoetryy.bsky.social
اردو شاعری
‏دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

‏حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بھُول پڑے وہ
October 27, 2025 at 8:56 PM
‏جمال یار کسی جام کا نہیں محتاج

یہ وہ شراب ہے جو دیکھنے سے چڑھتی ہے

‏تمہارے لب سے میں تشبیہ خود نہیں دیتا

‏ گلاب منتیں کرتے ہیں۔۔۔ دینی پڑتی ہے

‏♥️🥀♥️
February 12, 2025 at 1:24 PM

ہم اکثر ان کی قدر کرتے ان کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کے لیے ہمارا وجود مٹی ہوتا ہے.
‏اور ان سے دور رہتے ہیں جن کے لیے ہماری ذات امید ہوتی ہے.
January 20, 2025 at 5:28 AM

پسِ پردہ بھی تکلّم سے گریزاں رہنا

لوگ آواز سے تصویر بنا لیتے ہیں
January 20, 2025 at 5:26 AM

اک نئے سال کی آمد کا سہارہ لے کر
‏بیت جائیں گے نا جانے دسمبر کتنے
January 2, 2025 at 9:39 AM

گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی

گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا
January 2, 2025 at 9:38 AM

ہاں! کبھی تجھ کو بتائیں گے ہمیں دکھ کیا ہے

ہاں! دکھا دیں گے کبھی زخمِ دل و جاں ہمدم

‏ ― ناہید ورک
December 16, 2024 at 5:55 AM

خواہشوں کے دائرے میں قید رہنے والے کیا جانیں

محبت وہ سرشاری ہے جو بےطلب نصیب ہو
‏― "
December 16, 2024 at 5:54 AM

جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے

اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی

‏ ― احمد فراز
December 16, 2024 at 5:54 AM

بس اگلے موڑ پر منزل تری آنے ہی والی ہے
‏مرے اے ہم سفر! تو کتنا میرا دکھ بٹالے گا

‏ ― اعتبار ساجد
December 16, 2024 at 5:53 AM

اک طرف خونِ دل بھی تھا نایاب

اک طرف جشنِ جم مناۓ گۓ

‏ ― ناصر کاظمی
December 16, 2024 at 5:53 AM

صلح کر لی یہ سوچ کر میں نے

میرے دشمن نہ تھے برابر کے

‏ ― محسن نقوی
December 16, 2024 at 5:52 AM

بے ترے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں
‏تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے

‏ ― ابن انشاء
December 16, 2024 at 5:52 AM

حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہے

جادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں

‏ ― غالب
December 11, 2024 at 1:33 PM

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں
‏ہم اسے بے بصری کہتے ہیں

‏نام اس کا ہے اگر با خبری
‏پھر کسے بے خبری کہتے ہیں

‏یہ اگر لطف و کرم ہے تو کسے
‏جور و بے دادگری کہتے ہیں

‏کیا اسی کار‌ نظر بندی کو
‏حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں؟
December 10, 2024 at 11:28 PM

رفاقتوں کا کرب دل میں بسا ہے، مگر

یادوں کا سفر تنہا ہی سہی، دل میں تیری آواز ہے۔
December 10, 2024 at 11:26 PM

شکوہ کیوں کرتے ہو اب دل کے ٹوٹ جانے کا
‏تم بھی تو ہر وقت اسے ہاتھ میں لئے پھرتے تھے
December 10, 2024 at 11:25 PM

جس کو رھتی تھی سَدا فِکر میری ، دیکھو آج
‏وہ میرے دِل کی اُداسی پہ ، بڑا راضی ھے

‏کچھ تو معلوم ھو آخر ، تیرا معیار ھے کیا؟
‏مجھ سے ھر شخص یہاں ، تیرے سِوا راضی ھے۔
December 10, 2024 at 11:24 PM

گذری رفاقتوں کی نمی آنکھوں میں لئے

اک شخص تیرے شہر سے تنہا گذر گیا !!!
December 10, 2024 at 11:23 PM

دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے

پچھتاؤ گے،سنو ہو! یہ بستی اجاڑ کر
December 10, 2024 at 11:23 PM

تُو کہیں بھی ہو، دل کی دھڑکنوں میں بسی ہے تیری یاد،
‏خوابوں میں سہی، تیری محبت میری زندگی کا ساتھ ہے۔
December 10, 2024 at 11:21 PM

کہاں ہے تُو کہ پھر اِک بار کاروانِ بہار
‏گزر رہا ہے مِری عمرِ رائگاں کی طرح
December 10, 2024 at 11:21 PM

ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
‏تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
‏ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں
‏ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے

‏معراج فیض آبادی
December 8, 2024 at 1:03 PM

سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
‏بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے
December 8, 2024 at 1:01 PM
December 7, 2024 at 9:19 PM