حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بھُول پڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بھُول پڑے وہ
یہ وہ شراب ہے جو دیکھنے سے چڑھتی ہے
تمہارے لب سے میں تشبیہ خود نہیں دیتا
گلاب منتیں کرتے ہیں۔۔۔ دینی پڑتی ہے
♥️🥀♥️
یہ وہ شراب ہے جو دیکھنے سے چڑھتی ہے
تمہارے لب سے میں تشبیہ خود نہیں دیتا
گلاب منتیں کرتے ہیں۔۔۔ دینی پڑتی ہے
♥️🥀♥️
ہم اکثر ان کی قدر کرتے ان کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کے لیے ہمارا وجود مٹی ہوتا ہے.
اور ان سے دور رہتے ہیں جن کے لیے ہماری ذات امید ہوتی ہے.
ہم اکثر ان کی قدر کرتے ان کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کے لیے ہمارا وجود مٹی ہوتا ہے.
اور ان سے دور رہتے ہیں جن کے لیے ہماری ذات امید ہوتی ہے.
پسِ پردہ بھی تکلّم سے گریزاں رہنا
لوگ آواز سے تصویر بنا لیتے ہیں
پسِ پردہ بھی تکلّم سے گریزاں رہنا
لوگ آواز سے تصویر بنا لیتے ہیں
اک نئے سال کی آمد کا سہارہ لے کر
بیت جائیں گے نا جانے دسمبر کتنے
اک نئے سال کی آمد کا سہارہ لے کر
بیت جائیں گے نا جانے دسمبر کتنے
گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی
گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا
گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی
گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا
ہاں! کبھی تجھ کو بتائیں گے ہمیں دکھ کیا ہے
ہاں! دکھا دیں گے کبھی زخمِ دل و جاں ہمدم
― ناہید ورک
ہاں! کبھی تجھ کو بتائیں گے ہمیں دکھ کیا ہے
ہاں! دکھا دیں گے کبھی زخمِ دل و جاں ہمدم
― ناہید ورک
خواہشوں کے دائرے میں قید رہنے والے کیا جانیں
محبت وہ سرشاری ہے جو بےطلب نصیب ہو
― "
خواہشوں کے دائرے میں قید رہنے والے کیا جانیں
محبت وہ سرشاری ہے جو بےطلب نصیب ہو
― "
جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی
― احمد فراز
جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی
― احمد فراز
بس اگلے موڑ پر منزل تری آنے ہی والی ہے
مرے اے ہم سفر! تو کتنا میرا دکھ بٹالے گا
― اعتبار ساجد
بس اگلے موڑ پر منزل تری آنے ہی والی ہے
مرے اے ہم سفر! تو کتنا میرا دکھ بٹالے گا
― اعتبار ساجد
اک طرف خونِ دل بھی تھا نایاب
اک طرف جشنِ جم مناۓ گۓ
― ناصر کاظمی
اک طرف خونِ دل بھی تھا نایاب
اک طرف جشنِ جم مناۓ گۓ
― ناصر کاظمی
صلح کر لی یہ سوچ کر میں نے
میرے دشمن نہ تھے برابر کے
― محسن نقوی
صلح کر لی یہ سوچ کر میں نے
میرے دشمن نہ تھے برابر کے
― محسن نقوی
بے ترے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں
تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے
― ابن انشاء
بے ترے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں
تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے
― ابن انشاء
حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہے
جادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں
― غالب
حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہے
جادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں
― غالب
وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں
ہم اسے بے بصری کہتے ہیں
نام اس کا ہے اگر با خبری
پھر کسے بے خبری کہتے ہیں
یہ اگر لطف و کرم ہے تو کسے
جور و بے دادگری کہتے ہیں
کیا اسی کار نظر بندی کو
حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں؟
وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں
ہم اسے بے بصری کہتے ہیں
نام اس کا ہے اگر با خبری
پھر کسے بے خبری کہتے ہیں
یہ اگر لطف و کرم ہے تو کسے
جور و بے دادگری کہتے ہیں
کیا اسی کار نظر بندی کو
حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں؟
رفاقتوں کا کرب دل میں بسا ہے، مگر
یادوں کا سفر تنہا ہی سہی، دل میں تیری آواز ہے۔
رفاقتوں کا کرب دل میں بسا ہے، مگر
یادوں کا سفر تنہا ہی سہی، دل میں تیری آواز ہے۔
شکوہ کیوں کرتے ہو اب دل کے ٹوٹ جانے کا
تم بھی تو ہر وقت اسے ہاتھ میں لئے پھرتے تھے
شکوہ کیوں کرتے ہو اب دل کے ٹوٹ جانے کا
تم بھی تو ہر وقت اسے ہاتھ میں لئے پھرتے تھے
جس کو رھتی تھی سَدا فِکر میری ، دیکھو آج
وہ میرے دِل کی اُداسی پہ ، بڑا راضی ھے
کچھ تو معلوم ھو آخر ، تیرا معیار ھے کیا؟
مجھ سے ھر شخص یہاں ، تیرے سِوا راضی ھے۔
جس کو رھتی تھی سَدا فِکر میری ، دیکھو آج
وہ میرے دِل کی اُداسی پہ ، بڑا راضی ھے
کچھ تو معلوم ھو آخر ، تیرا معیار ھے کیا؟
مجھ سے ھر شخص یہاں ، تیرے سِوا راضی ھے۔
گذری رفاقتوں کی نمی آنکھوں میں لئے
اک شخص تیرے شہر سے تنہا گذر گیا !!!
گذری رفاقتوں کی نمی آنکھوں میں لئے
اک شخص تیرے شہر سے تنہا گذر گیا !!!
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے
پچھتاؤ گے،سنو ہو! یہ بستی اجاڑ کر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے
پچھتاؤ گے،سنو ہو! یہ بستی اجاڑ کر
تُو کہیں بھی ہو، دل کی دھڑکنوں میں بسی ہے تیری یاد،
خوابوں میں سہی، تیری محبت میری زندگی کا ساتھ ہے۔
تُو کہیں بھی ہو، دل کی دھڑکنوں میں بسی ہے تیری یاد،
خوابوں میں سہی، تیری محبت میری زندگی کا ساتھ ہے۔
کہاں ہے تُو کہ پھر اِک بار کاروانِ بہار
گزر رہا ہے مِری عمرِ رائگاں کی طرح
کہاں ہے تُو کہ پھر اِک بار کاروانِ بہار
گزر رہا ہے مِری عمرِ رائگاں کی طرح
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں
ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے
معراج فیض آبادی
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں
ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے
معراج فیض آبادی
سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے
سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے