اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا میرے دوست
ادریس بابر
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا میرے دوست
ادریس بابر
کیا کسی کے واسطے اب چھوڑنی اپنی جگہ
عطاء محمد
کیا کسی کے واسطے اب چھوڑنی اپنی جگہ
عطاء محمد
روحوں میں دھنک اتر رہی تھی
میں خواب میں بات کر رہا تھا
وہ نیند میں پیار کر رہی تھی
احوال ہی اور ہو رہے تھے
لذت میں وصال رو رہے تھے
بوسوں میں دھلے دھلائے دونوں
نشے میں لپٹ کے سو رہے تھے
چھوٹا سا حسین سا وہ کمرہ
اک عالم خواب ہو رہا تھا
روحوں میں دھنک اتر رہی تھی
میں خواب میں بات کر رہا تھا
وہ نیند میں پیار کر رہی تھی
احوال ہی اور ہو رہے تھے
لذت میں وصال رو رہے تھے
بوسوں میں دھلے دھلائے دونوں
نشے میں لپٹ کے سو رہے تھے
چھوٹا سا حسین سا وہ کمرہ
اک عالم خواب ہو رہا تھا
آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ
آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ
پھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرح
پھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرح
بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے
بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے
کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے
کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے
وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی
وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی
یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے
یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے
تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی
تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی
تو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے
تو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے
کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے
کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے
آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے
آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے
اک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ
اک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ
خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت
خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت
اپنے ہی ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا کر لے آئے
اپنے ہی ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا کر لے آئے
نہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئے
نہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئے
بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی
بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے
اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے
اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے
دل شکستہ ہو تو پھر اپنا پرایا کیا ہے
دل شکستہ ہو تو پھر اپنا پرایا کیا ہے
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
سب ولولے چلے گئے دانائی رہ گئ
قتیل شفائی
سب ولولے چلے گئے دانائی رہ گئ
قتیل شفائی
سرد مہری، حضور قاتل ہے
سرد مہری، حضور قاتل ہے