ڈاکٹر محمد عظیم سلطان
banner
azeemsultan-75.bsky.social
ڈاکٹر محمد عظیم سلطان
@azeemsultan-75.bsky.social
سانوں سپ سمے دا ڈنگدا سانوں پل پل چڑھدا زہر

ایسا لگا کائنات ساری
اس آن تو ہے فقط ہماری

جب چاند مرا نہا کے نکلا
میں دل کو دیا بنا کے نکلا

کشکول دعا اٹھا کے نکلا
شاعر تھا صدا لگا کے نکلا

دریا وہ سمندروں سے گہرے
وہ خواب گلاب ایسے چہرے

سب زاویوں ہو گئے سنہرے
آئینوں میں جب وہ آ کے ٹھہرے
December 15, 2024 at 12:40 PM

موضوع سخن، سخن تھے سارے
عالم ہی عجیب تھے ہمارے

جاگے وہ لہو میں سلسلے پھر
تن من کے وہی تھے ذائقے پھر

تھم تھم کے برس برس گئے پھر
پاتال تک ہو گئے ہرے پھر

جاری تھا وہ رقص ہمکناری
نکلی نئی صبح کی سواری
December 15, 2024 at 12:40 PM
خوشبو سے گلاب ہو رہا تھا
مستی سے شراب ہو رہا تھا

وہ چھاؤں سا چاندنی سا بستر
ہم رنگ نہا رہے تھے جس پر

یوں تھا کہ ہم اپنی ذات کے اندر
تھے اپنا ہی ایک اور منظر

سیراب محبتوں کے دھارے
باہم تھے وجود کے کنارے
December 15, 2024 at 12:40 PM